| تربیت اولاد |
مخالف سمجھنا شروع کردیتے ہیں ۔ ایسانہ کیا جائے بلکہ بچوں کی غلطی مثبت اور نرم انداز میں ان پر آشکار کی جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو قیدی تصور نہ کريں اورسمجھانے والے کو اپنا خیر خواہ اور ہمدرد سمجھيں۔ام المومنین حضرتِ سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ، با ب فضل الرفق،الحدیث ۲۵۹۴، ص ۱۳۹۸)
حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:جسے نرمی میں سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی میں سے حصہ دیا گیا اور جو نرمی کے حصے سے محروم رہا وہ بھلائی میں سے اپنے حصے سے محروم رہا ۔''
(جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الرفق،الحدیث ۲۰۲۰، ج۳، ص ۴۰۸)
بعض ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے وقت مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں مثلاً اب اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنگل میں چھوڑ آؤں گی وغیرہ ۔ایسا نہ کیجئے بچے کا ناپختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور نتیجۃً وہ بھی جوابی دھمکیوں پر اتر آتا ہے اورسنبھلنے کی بجائے بگڑتا چلا جاتا ہے ۔ بچے کو کبھی بھی آناً فاناًغصے میں سزا نہ دیجئے بلکہ اس کی غلطی سامنے آنے پر سوچئے کہ مجھے اسے کس طرح سمجھانا چاہيے پھر اس حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے اسے سمجھائيے۔ سب کے سامنے نہ جھاڑئيے بچہ بہت سبکی محسوس کرتا ہے لہٰذا! حتی الامکان اسے تنہائی ہی میں سمجھائیں ان شاء اللہ عزوجل