Brailvi Books

تربیت اولاد
170 - 185
اپنی اولاد کی اصلاح کیجئے
    اگر بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو تو والدین جب تک لپک کر اپنے بچے کو پکڑ نہ لیں انہیں چین نہیں آتا ۔مگر افسوس یہی اولاد جب رب کریم کی نافرمانیوں میں ملوث ہوکر جہنم کی طرف تیزی سے بڑھنے لگتی ہے ،والدین کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔بچہ اگر اسکول سے چھٹی کر لے تو اسے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلائی جاتی ہے مگر افسوس نماز نہ پڑھنے پر اسے سرزنش نہیں کی جاتی ۔

    امامِ اہلسنّت ،مجددِدین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں کسی نے استفتاء پیش کیا کہ ''والدین کا حق،اولادِ بالغ کو تنبیہ خیر واجب ہے یا فرض؟'' اس کا جواب دیتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:''جو حکم فعل کا ہے وہی اس پر آگاہی دینی ہے ،فرض پر فرض ،واجب پہ واجب ،سنّت پہ سنّت ،مستحب پہ مستحب ۔مگر بشرطِ قدرت بقدرِ قدرت بامید منفعت ورنہ
عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان: تم اپنی فکر رکھوتمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہواجب کہ تم راہ پر ہو۔(پ۷،سورۃ المائدۃ:۱۰۵)

( فتاویٰ رضویہ،ج۲۴،ص۳۷۱)

    لیکن اولاد کی اصلاح کا انداز ایسا ہونا چاہيے کہ ان کی اصلاح بھی ہوجائے اور وہ والدین سے باغی بھی نہ ہوں۔ اس لئے جب بھی بچے کو سمجھائیں تو نرمی سے سمجھائیں     ۔بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں ۔بعض والدین کی عادت ہوتی ہے کہ جونہی بچے نے کوئی غلطی کی وہ اس کے احساسات کا خیال کئے بغیر کوسنا شروع کر دیتے ہیں ۔اس سے بچے احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور والدین کواپنا
Flag Counter