اگر بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو تو والدین جب تک لپک کر اپنے بچے کو پکڑ نہ لیں انہیں چین نہیں آتا ۔مگر افسوس یہی اولاد جب رب کریم کی نافرمانیوں میں ملوث ہوکر جہنم کی طرف تیزی سے بڑھنے لگتی ہے ،والدین کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔بچہ اگر اسکول سے چھٹی کر لے تو اسے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلائی جاتی ہے مگر افسوس نماز نہ پڑھنے پر اسے سرزنش نہیں کی جاتی ۔
امامِ اہلسنّت ،مجددِدین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں کسی نے استفتاء پیش کیا کہ ''والدین کا حق،اولادِ بالغ کو تنبیہ خیر واجب ہے یا فرض؟'' اس کا جواب دیتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:''جو حکم فعل کا ہے وہی اس پر آگاہی دینی ہے ،فرض پر فرض ،واجب پہ واجب ،سنّت پہ سنّت ،مستحب پہ مستحب ۔مگر بشرطِ قدرت بقدرِ قدرت بامید منفعت ورنہ