حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں اس کا بچہ آگیا ۔ اس شخص نے اپنے بیٹے کو بوسہ دیا اور پھر اپنی ران پر بٹھا لیا ۔اسی دوران اس کی بچی بھی آگئی جسے اس نے اپنے سامنے بٹھا لیا (یعنی نہ اس کا بوسہ لیا اور نہ گود میں بٹھایا)تو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :''تم نے ان دونوں کے درمیان برابری کیوں نہ کی ؟''
(مجمع الزوائد،کتاب البر والصلۃ ،باب ماجاء فی الاولاد،الحدیث۱۳۴۸۹،ج۸،ص۲۸۶)
یک طرفہ رائے سن کر فیصلہ نہ دیجئے
اگر کبھی بچوں میں جھگڑا ہوجائے تو ایک فریق کی بات سن کر کبھی بھی فیصلہ نہ دیجئے کیونکہ حق تلفی کا قوی امکان ہے ،ہوسکتا ہے کہ جس کی آپ نے بات سنی وہ غلطی پر ہو اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ فریقین (یعنی دونوں بچوں) کی بات سن کر انہیں صلح پر آمادہ کریں ۔