Brailvi Books

تربیت اولاد
168 - 185
ہی فرمائيے کہ ٹی وی میں جس قسم کے لوفر،حیاباختہ اور تہذیب سے کوسوں دور پروگرام دکھائے جاتے ہیں کیا ان کو دیکھنے والا مستحق جنت قرار پائے گا یا دوزخ کا حق دار ، تو پھر ٹی وی کے معاملے میں اولاد کی ضد کیوں مان لی جاتی ہے ؟اللہ تعالیٰ ہمیں عقل ِ سلیم عطا فرمائے ۔

(اس سلسلے میں تفصیلی معلومات کے لئے امیراہلِ سنّت کے رسائل ''ٹی وی کی تباہ کاریاں '' اور''گانے باجے کی ہولناکیاں ''کا مطالعہ کیجئے )
بچوں سے یکسا ں سلوک کیجئے
    ماں باپ کو چاہيے کہ ایک سے زائد بچے ہونے کی صورت میں انہیں کوئی چیز دینے اورپیار محبت اور شفقت میں برابری کا اصول اپنائیں ۔بلاوجہِ شرعی کسی بچے بالخصوص بیٹی کو نظر انداز کر کے دوسرے کو اس پر ترجیح نہ دیں کہ اس سے بچوں کے نازک قلوب پر بغض وحسد کی تہہ جم سکتی ہے جو ان کی شخصی تعمیر کے لئے نہایت نقصان دہ ہے ۔ معلمِ اخلاق صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اپنا کچھ مال دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گی جب تک کہ آپ اس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو گواہ نہ کر لیں ۔ چنانچہ میرے والد مجھے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّمکی بارگاہ میں لے گئے تاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو مجھے دئيے گئے صدقے پر گواہ کر لیں ۔ سرورِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان سے پوچھا : '' کیا تم نے
Flag Counter