Brailvi Books

تربیت اولاد
166 - 185
ہمارے ہاں کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی ۔ بدعہدی (یعنی پورا نہ کرنے)کی نیت سے وعدہ کرنا حرام ہے۔اکثر علماء کے نزدیک پورا کرنے کی نیت سے وعدہ کیا تو اس کا پورا کرنا مستحب ہے اورتوڑنا مکروہ تنزیہی ہے ۔(حدیقہ ندیہ ،ج۱،ص۶۵۶)

    اگر کسی سے کوئی کام کرنے کا وعدہ کیا اور وعدہ کرتے وقت نیت میں فریب نہ ہو پھر بعد میں اس کام کو کرنے میں کوئی حرج پایا جائے تو اس وجہ سے اس کام کو نہ کرنا وعدہ خلافی نہیں کہلائے گا ، حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ،''وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی بھی ہو بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اسے پورا کرنے کی نہ ہو ۔''
 (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰، حصہ اول ، ص ۸۹)
 (۱۵) آتش بازی :
    افسوس! آج آتش بازی میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا بلکہ شعبان کے ایام میں تو ہر علاقہ گویا میدان ِجنگ نظر آتا ہے ۔جگہ جگہ پٹاخے پھوڑے جارہے ہوتے ہیں اور پھلجھڑیاں چھوڑی جارہی ہوتی ہیں ۔آتش بازی ممنوع ہے اپنے بچوں کو اس سے بچائيے۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان لکھتے ہیں :

    '' آتشبازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ یہ نمرودبادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تواس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگا کر حضرت خلیل اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلاۃوالسلام کی طرف پھینکے۔''(اسلامی زندگی ،ص۷۷)
Flag Counter