| تربیت اولاد |
اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیش کئے جاتے ہیں ،پیر اور جمعرات کو ۔ پس ہر بندے کی مغفرت ہوجاتی ہے سوائے اس کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض وکینہ رکھتا ہے، اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں ) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔''
(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب ،باب النھی عن الشحناء والتھاجر،الحدیث ۲۵۶۵،ص۱۳۸۸ )
(۱۱) حسد:
یہ تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے ''حسد'' کہلاتاہے ۔(لسان العرب ،ج۱،ص۸۲۶)حسدکرنابالاتفاق حرام ہے۔(حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۶۰۰)
اپنے بچوں کوحسد سے بچائيے ۔ لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔ حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے پیارے محبوب ،دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔''(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،با ب فی الحسد،الحدیث ۴۹۰۳،ج۴،ص۳۶۰)
(۱۲) بات چیت بند کرنا:
ہمارے معاشرے میں معمولی وجوہات کی بنا پر ترکِ تعلقات کرنے اور بات چیت بند کردینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی ۔ حضرت سیدناابوہریرہ رضی