Brailvi Books

تربیت اولاد
162 - 185
    غیبت وہ خطرناک مرض ہے کہ شاید ہی کوئی مجلس اس سے محفوظ رہتی ہو ۔ جہاں دو آدمی اکٹھے ہوئے اور تیسرے کا ذکر ہوا تو اس سے متعلق گفتگو کا اختتام اس کی برائیاں کرنے پر ہوتا ہے ۔ اپنے بچوں کو غیبت کی نحوست سے بچائيے۔

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''جب مجھے معراج کروائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان کے ساتھ اپنے چہروں اورسینوں کو نوچتے تھے۔'' میں نے پوچھا :''اے جبرائیل !یہ لوگ کون ہیں ؟ ''عرض کی:''یہ ایسے آدمی ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔''
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الھبات،باب فی الغیبۃ ،الحدیث ۴۸۷۸،ج۴،ص۳۵۳)
 (۸)لعنت:
    لعنت سے مرادکسی کو اللہ کی رحمت سے دور کہناہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔ (حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص۲۳۰)

    فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ''لعنت بہت سخت چیز ہے ،ہر مسلمان کو اس سے بچایا جائے بلکہ کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔''(فتاویٰ رضویہ ،ج۲۱،ص۲۲۲)

    ہمارے معاشرے میں بات بے بات لعنت ملامت کرنے کا مرض بھی عام
Flag Counter