غیبت وہ خطرناک مرض ہے کہ شاید ہی کوئی مجلس اس سے محفوظ رہتی ہو ۔ جہاں دو آدمی اکٹھے ہوئے اور تیسرے کا ذکر ہوا تو اس سے متعلق گفتگو کا اختتام اس کی برائیاں کرنے پر ہوتا ہے ۔ اپنے بچوں کو غیبت کی نحوست سے بچائيے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''جب مجھے معراج کروائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان کے ساتھ اپنے چہروں اورسینوں کو نوچتے تھے۔'' میں نے پوچھا :''اے جبرائیل !یہ لوگ کون ہیں ؟ ''عرض کی:''یہ ایسے آدمی ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔''