| تربیت اولاد |
یہ بات اپنی اولاد کے دل میں بٹھادیجئے کہ سب مسلمان برابر ہیں کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان پر پرہیزگاری کے سواکوئی برتری نہیں ہے اور یہ کہ غریب بچے بھی تمہارے اسلامی بھائی ہیں اس لئے انہیں حقیر مت جانو۔
(۶)جھوٹ بولنا:
خلافِ واقع بات کرنے کو''جھوٹ ''کہتے ہیں۔(حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص۲۰۰)
ہمارے معاشرے میں جھوٹ اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب اسے معاذ اللہ عزوجل برائی ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ایسے حالات میں بچوں کا اس سے بچنا بہت دشوار ہے ۔ اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادتِ پاکیزہ اختیار کئے رہيں ۔
اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا: ''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد بو سے ایک میل دور ہوجاتاہے ۔''(جامع الترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الصدق والکذب ،الحدیث۱۹۷۹،ج۳،ص۳۹۲)
(۷) غیبت:
غیبت سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے پوشیدہ عیوب کو (جن کا دوسروں کے سامنے ظاہر ہونااُسے ناپسند ہو) اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ،اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہوتو اسے بہتان کہتے ہیں ۔مثلاً ، ''مجھے بے وقوف بنا رہا تھا '' ،''اس کی نیت خراب ہے ''،''ڈرامہ باز ہے ''وغیرہ (ماخوذ از بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۴۵)