| تربیت اولاد |
ہےکہ جب تک ہر جاننے والے پر اس عیب کو بیان نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا ۔ اس بُری عادت کے اثرات سے بچے بھی نہیں بچ پاتے اور اپنے بڑوں کے نقش ِ قدم پر چلنے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔والدین کو چاہيے کہ اپنے بچوں کے سامنے اس عادت قبیحہ کی مذمت بیان کرکے انہیں اس سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کریگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھولے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے راز کھول دے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رسواہو جائے گا ۔''(سنن ابن ماجہ ،کتاب الحدود،الحدیث ۲۵۴۶،ج۳،ص۲۱۹)
شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں بچپن میں اپنے والدِ محترم کی معیت میں شب بیداری میں مصروف تھا اور قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا ۔ ہمارے اطراف میں کچھ لوگ سوئے ہوئے تھے ۔ میں نے اپنے والد سے کہا :''اس جماعت میں ایک بھی ایسا نہیں جو بیدار ہو تاکہ دورکعت نماز ادا کر لے ،اس طرح سوئے ہوئے ہیں کہ گویا مرچکے ہیں۔'' یہ سن کر میرے والدِ محترم نے جواب دیا :''اے باپ کی جان! اگرتُو بھی سو جاتا تو اس سے بہتر تھا کہ لوگوں کی عیب جوئی کرتا۔''
(حکایاتِ گلستانِ سعدی،حکایت نمبر ۴۸،ص۷۵)
(۵) تکبر:
خودکودوسروں سے افضل سمجھنا تکبرکہلاتاہے۔
(مفردات امام راغب،ص۶۹۷) اورتکبرحرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۵۴۳،۵۴۴)