حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،تمہارے بچے تمہارے ساتھ نیک سلوک کریں گے۔''
(المستدرک،کتاب البر والصلۃ، باب بروا آباؤکم،الحدیث۷۳۴۱،ج۵،ص۲۱۴)
حضرت ثابت بنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر ایک آدمی اپنے باپ کو مار رہاتھا ۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ اے ناہنجار ! یہ کیا ہے ؟ اس پر باپ بولا: '' اسے چھوڑ دو کیونکہ میں بھی اسی جگہ اپنے باپ کو مارا کرتا تھا ،یہی وجہ ہے کہ میرا بیٹابھی مجھے اسی جگہ ماررہاہے ،یہ اسی کا بدلہ ہے اسے ملامت مت کرو۔''
(تنبیہ الغافلین، باب حق الولد علی الوالد ،ص۶۹)
(۱۹)اسا تذہ وعلماء کا ادب:
والدین کو چاہيے کہ اپنی اولاد کو اساتذہ وعلماء کا ادب سکھائیں کہ( علمِ دین سکھانے والا) استاذ روحانی باپ ہوتا ہے اور حقیقی والد جسم کا ۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی