(کتاب الزھد الکبیر،الحدیث ۱۰۴،ص۸۸)
اپنی اولاد کو وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ان کا ذہن بنائيے کہ وقت ضائع کرنا عقل مندوں کا شیوہ نہیں ۔سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نقل فرماتے ہیں'' بندے کا غير مفيد کاموں ميں مشغول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے اپنی نظر عنايت پھيرلی ہے۔اور جس مقصد کے ليے انسان کو پيدا کيا گيا ہے ،اگر اس کی زندگی کا ايک لمحہ بھی اس کے علاوہ گزر گيا تو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر عرصہ حسرت دراز کر ديا جائے ۔
(مجموعہ رسائل للامام الغزالی،ایھاالولد،ص۲۵۷)
اور جس کی عمر چاليس سال سے زيادہ ہو جائے اور اس کے باوجود اُس کی برائيوں پر اس کی اچھائياں غالب نہ ہوں ،تو اسے جہنم کی آگ ميں جانے کے ليے تيار رہنا چاہيے۔
(الفردوس بماثور الخطاب :باب الميم ، الحدیث ۵۵۴۴ ،ج ۳، ص۴۹۸ )
ہمارے اسلاف رحمھم اللہ اپنے وقت کو کس طرح استعمال کیا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو :چنانچہ حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں