Brailvi Books

تربیت اولاد
148 - 185
تین دینے ہی لگے تھے کہ وہ بچہ بھاگتا ہوا سامنے گلی میں داخل ہوا اور نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ۔

    سخت گرمی کا موسم تھا مگر آپ دامت برکاتھم العالیہ کو فکرِآخرت نے بے چین کردیا ۔ چنانچہ شدید گرمی میں بھی آپ اس بچے کو تلاش کرنے لگے تاکہ اسے بقیہ ٹافیاں دے سکیں ۔ آپ کو نہ تو اس بچے کا نام معلوم تھا اور نہ ہی پتا۔آپ دروازوں پر دستک دے دے کر اور گلی میں موجود لوگوں کے پاس جاجاکر اس بچے کا حلیہ بتاکر اس کے بارے میں دریافت کرتے ۔جب لوگوں پر حقیقت آشکار ہوتی تو کچھ مسکرا کر رہ جاتے اور کچھ حیران رہ جاتے کہ اتنی چھوٹی سے عمر میں تقویٰ کا کیا عالم ہے ۔ بالآخر آپ مطلوبہ گھر تک جا پہنچے ۔ دستک کے جواب میں ایک بوڑھی خاتون نے دروازہ کھولا تو آپ نے سارا ماجرا بیان کیا ۔ وہ بڑھیا تڑپ کر بولی :''بیٹا تم بھی کسی کے لال ہو ،ایسی چلچلاتی دھوپ میں تو پرندے بھی گھونسلوں میں ہیں اور تم ایک آنہ کی چیز دینے کے لئے اس طرح گھوم رہے ہو ۔''آپ دامت برکاتھم العالیہ نے گفتگو کو طول دینے کی بجائے کہا :''اگر میں ابھی نہیں دوں گا تو بروزِ قیامت رب عزوجل کی بارگاہ میں اس کا حساب کیسے دوں گا؟'' یہ کہہ کر آپ نے ٹافیاں اس خاتون کے ہاتھ میں تھمائیں اور سکون کا سانس لیا ۔
(۹) شکر کرنا:
    اپنی اولاد کو شکرِ نعمت کا عادی بنائیں اور ان کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی نعمت ملے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہيے۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے
Flag Counter