Brailvi Books

تربیت اولاد
139 - 185
    حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :''جب کسی کو چھینک آئے تو
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
کہے اور اس کا بھائی یا ساتھ والا
یَرْحَمُکَ اللہُ
کہے پھر اس کے جواب میں چھینکنے والایہ کہے
یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الادب ،باب اذاعطس کیف یشمت ،الحدیث۶۲۲۴،ج۴،ص۱۶۳)
مسئلہ:
    اگر چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو سننے والے پر فوراً اس طرح جواب دینا (یعنی  یَرْحَمُکَ اللہ کہنا)واجب ہے کہ وہ سن لے۔
جماہی کی مذمت:
    حضرت سیدناابوسعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جب کسی کو جماہی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے کیونکہ شیطان منہ میں گھس جاتا ہے۔''
 (صحیح مسلم،کتاب الزھدوالرقائق،باب تشمیت العاطس،الحدیث۲۹۹۵،ص۱۵۹۷)
    جب جماہی آنے لگے تو اوپر کے دانتوں سے نچلے ہونٹ کو دبائیں یا الٹے ہاتھ کی پشت منہ پر رکھ دیں۔جماہی روکنے کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ جب جماہی آنے لگے تو دل میں خیال کرے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اس سے محفوظ ہیں تو فوراً رک جائے گی ۔''
 (رد المحتار،کتاب الصلوٰۃ،مطلب :اذا تردد الحکم بین سنۃ..الخ،ج۲،ص۴۹۸،۴۹۹)
Flag Counter