Brailvi Books

تربیت اولاد
137 - 185
کمرے کی طر ف جاتے ہوئے کھنکارلینا چاہيے تاکہ گھر کے دیگر افراد کو ہماری موجودگی کا احساس ہوجائے اور وہ آگے پیچھے ہوسکیں۔مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا ۔جب میں رات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے کھنکارتے ۔''
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب ،باب الاستئذان،الحدیث۳۷۰۸،ص۲۶۹۸)
    (۴) جب کسی کے گھر جائیں تو سلام کريں اور اپنا نام بتائیں اور پوچھیں کہ کیا میں اندر آسکتا ہوں اگر اجازت مل جائے  فبھاورنہ ناراض ہوئے بغیر واپس لوٹ آئیں۔ اس دوران دروازے سے ہٹ کرکھڑے ہوں تاکہ گھر میں نظر نہ پڑے ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ اللہ عزوجل کے پیارے محبوب ، دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب کسی دروازہ پر تشریف لے جاتے تو دروازہ کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ دائیں یا بائیں طرف دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوتے تھے ۔
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستیذان ،الحدیث ۵۱۸۶،ج۴،ص۴۴۶)
گفتگوکے آداب:
    حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو اللہ عزوجل اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہيے کہ اچھی بات کرے یا چپ رہے ۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب حفظ اللسان،الحدیث۶۴۷۵،ج۴،ص۲۴۰)
    حضرتِ سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے
Flag Counter