Brailvi Books

تربیت اولاد
135 - 185
بھائی کو سلام کرتا ہے تو ان میں سے اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے بھائی سے زیادہ گرم جوشی سے ملاقات کرتا ہے ۔پھر جب وہ مصافحہ کرتے ہیں تو ان پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ،ان میں سے نوّے رحمتیں سلام میں پہل کرنے والے کے لئے اور دس مصافحہ میں پہل کرنے والے کے لئے ہیں ۔''
 (البحر الزخار،ابو عثمان الہندی ،الحدیث۳۰۸،ج۱،ص۴۳۷)
    (۱۵)دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں اور مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ نہ ہو اور دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں ۔
 (ردالمحتار ،کتاب الحظر والاباحۃ ،باب الاستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۲۹)
    (۱۶) عالمِ باعمل ،ساداتِ کرام ،والدین اور کسی بھی معظم دینی کے ہاتھ چومنا جائزہے ۔حضرت سیدنازارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو وفد ِعبدالقیس میں شامل تھے،فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں آئے تو جلدی جلدی سواریوں سے اتر پڑے اور حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دستِ مبارک اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔''
 (سنن ابی داود،کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الرجل ،الحدیث۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶)
    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ''اس حدیث سے پاؤں چومنے کا جواز ثابت ہوا ۔''
 (اشعۃ اللمعات،ج۴،ص۲۷)
     درمختار میں ہے :''حصول ِ برکت کے لئے عالم اور پرہیز گار آدمی کا ہاتھ چومنا جائز ہے۔''
 (الدر المختار ،کتاب الحظر والاباحۃ ،باب الاستبراء ،ج۹،ص۶۳۱)
Flag Counter