(۱۶) عالمِ باعمل ،ساداتِ کرام ،والدین اور کسی بھی معظم دینی کے ہاتھ چومنا جائزہے ۔حضرت سیدنازارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو وفد ِعبدالقیس میں شامل تھے،فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں آئے تو جلدی جلدی سواریوں سے اتر پڑے اور حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دستِ مبارک اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔''
(سنن ابی داود،کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الرجل ،الحدیث۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ''اس حدیث سے پاؤں چومنے کا جواز ثابت ہوا ۔''
درمختار میں ہے :''حصول ِ برکت کے لئے عالم اور پرہیز گار آدمی کا ہاتھ چومنا جائز ہے۔''
(الدر المختار ،کتاب الحظر والاباحۃ ،باب الاستبراء ،ج۹،ص۶۳۱)