Brailvi Books

تربیت اولاد
132 - 185
میں ان میں سے کسی چیز میں دخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں۔
 (ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۲ ملخصاً)
    (۵) بہار شریعت (حصہ ۱۶ ص ۹۲)میں ہے کہ انگلیوں یا ہتھیلیوں سے سلام کرنا ممنوع ہے۔حضرت سیدناعمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو شخص غیروں کی مشابہت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ،یہود ونصاریٰ کی مشابہت نہ کرو،یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے سے ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں سے ہے ۔
 (جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والاداب ،باب ماجاء فی کراھیۃ اشارۃ الید بالسلام،الحدیث۲۷۰۴،ج۴،ص۳۱۹ )
    (۷) سلام میں پہل کیجئے۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی :''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم!جب دو شخص ملاقات کریں تو پہلے کون سلام کرے ؟'' فرمایا: ''پہلے سلام کرنے والا اللہ عزوجل کے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔''
 (جامع الترمذی، کتاب الاستئذان والاداب ،باب ماجاء فی فضل الذی یبدا بالسلام،الحدیث۲۷۰۳،ج۴،ص۳۱۸ )
    حضرت مولانا سید ایوب علی علیہ رحمۃ القوی کا بیان ہے کہ '' کوہ ِبھوالی سے میری طلبی فرمائی جاتی ہے ، میں بہ ہمراہی شہزادہ اصغرحضرت مولانامولوی شاہ محمد مصطفی رضاخاں صاحب مدظلہ الاقدس، بعد ِ مغرب وہاں پہنچتا ہوں ،شہزادہ ممدوح اندر مکان میں جاتے ہوئے یہ فرماتے ہیں'' ابھی حضورکو آپ کے آنے کی اطلاع کرتاہوں۔'' مگر باوجود اس آگاہی کے کہ حضور(یعنی امامِ اہلسنّت الشاہ مولانااحمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن)تشریف لانے والے ہیں ،تقدیمِ سلام سرکارہی فرماتے ہیں، اس وقت دیکھتا ہوں کہ حضوربالکل میرے پاس جلوہ فرما ہیں ۔'' 

(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۹۶)
Flag Counter