امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن بچپن میں ایک مولوی صاحب کے پاس پڑھا کرتے تھے ۔ ایک روزمولوی موصوف حسب ِمعمول پڑھارہے تھے کہ ایک بچے نے انہیں سلام کیا ، مولوی صاحب نے جواب دیا ''جیتے رہو۔''اس پرآپ نے عرض کی ''یہ تو سلام کاجواب نہ ہوا،وعلیکم السلام کہنا چاہيے تھا ۔'' مولوی صاحب سن کر بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔ (حیات اعلیٰ حضرت،ج۱،ص۸۷)
(۳) سلام کرنا سنت اور اس کاجواب فوراًدینا واجب ہے اگر بلاعذر تاخیر کی تو گنہگار ہوگا۔
(الدر المختار ورد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۸۳:بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۸۸،۸۹)
(۴)سلام اتنی آواز سے کہے کہ جس کو سلام کیا ہے وہ سن لے اور اگر اتنی آواز نہ ہو تو جواب دینا واجب نہیں، جواب سلام میں بھی اتنی آواز ہو کہ سلام کرنے والا سن لے اور اتنا آہستہ کہا کہ وہ سن نہ سکا تو واجب ساقط نہ ہوا ۔
( فتاویٰ بزازيۃ، کتاب الکراہیۃ، نوع فی السلام، ج۶، ص۳۵۵)
(۴) سلام کرنے والے کے لیے چاہے کہ سلام کرتے وقت دل میں یہ نیت کرے کہ اس کا مال اس کی عزت اس کی آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور