Brailvi Books

تربیت اولاد
119 - 185
    اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے :''کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔''
 (سنن الترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی ادب الولد ،الحدیث۱۹۵۹،ج۳،ص۳۸۳)
    والدین کو چاہيے کہ اپنے بچے کو مختلف آداب سکھائیں ، بغرضِ سہولت یہاں چند اُمور کا بیان کیا جارہا ہے ۔
کھانے کے آداب:
    کھانا اللہ تعالیٰ کی بہت لذیذ نعمت ہے ۔ اگر سنتِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے مطابق کھانا کھایا جائے تو ہمیں پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ ثواب بھی حاصل ہوگا ۔ اس لئے والدین کو چاہيے کہ اپنی اولاد کو سنت کے مطابق کھانا کھانے کی عادت ڈالیں ۔ اس سلسلے میں ان کا ذہن بنائیں کہ

    (۱) ہرکھانے سے پہلے اپنے ہاتھ پہنچوں تک دھو ليں ۔حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:'' جویہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں برکت زیادہ کرے تو اسے چاہيے کہ جب کھانا حاضر کیا جائے تو وضو کرے اور جب اٹھایا جائے تب بھی وضو کرے ۔''
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الاطعمہ،باب الوضوء عند الطعام ،الحدیث۳۲۶۰،ج۴،ص۹)
    حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں: اس(یعنی کھانے کے وضو ) کے معنی ہیں ہاتھ ومنہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا کلی کرلینا ۔
 (مرأۃ المناجیح ،ج۶،ص۳۲)
Flag Counter