| تربیت اولاد |
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنی مسجد میں دومجلسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے ،ایک مجلس کے لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں ،اس کی طرف راغب ہیں ، اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے۔ اور دوسری مجلس کے لوگ خود بھی فقہ اور علم سیکھ رہے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں،یہی افضل ہیں ،میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ '' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم انہی میں تشریف فرما ہوئے ۔
(سنن الدارمی، المقد مۃ ،باب فی فضل العلم ،الحدیث ۳۴۹، ج۱،ص۱۱۱ )
استاذ کا انتخاب:
ان شفاف آئینوں میں تقویٰ وپرہیز گاری کی نقش نگاری کرنے اور شیطان کی کاریگری سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لئے ایسا استاذ تلاش کیا جائے جو خوفِ خدا عزوجل اور عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا پیکر ہو ۔ مگر افسوس !کہ فی زمانہ یہ اہم انتخاب بھی دنیاوی تقاضوں اور سہولتوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جتنے بھی لعل وجواہر پیدا ہوئے ان کی تعلیم وتربیت خدا ترس اور شریف النفس علماء واساتذہ کے ہاتھوں ہوئی ۔
حدیث میں ہے''بے شک یہ علم دین ہے تم میں سے ہر شخص دیکھ لے کہ وہ کس سے دین حاصل کررہا ہے ۔''(کنزالعمال،کتاب العلم ،الباب الثالث فی آداب العلم ،الحدیث۲۹۲۶۰،ج۱۰،ص۱۰۵)