Brailvi Books

تربیت اولاد
116 - 185
لینے یا دینے)، حقوق العباد وغیرہ کے شرعی احکام سکھا دئيے جائیں ۔

     اس کے بعد چاہیں تو وہ دنیاوی تعلیم جس سے احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو ،بھی دلائیں لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے درسِ نظامی(یعنی عالم کورس) کروائیں تاکہ وہ عالم بننے کے بعد معاشرے میں لائق ِ تقلید کردار کا مالک بنے اور دوسروں کو علمِ دین بھی سکھائے ۔بطورِ ترغیب علمِ دین سیکھنے کے چند فضائل ملاحظہ ہوں :

    حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے سرکارِ مدینہ فیض گنجینہ ،راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :''جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے اور بے شک فرشتے طالب العلم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے حتیّٰ کہ پانی کی مچھلیاں طالب علم کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علما ء وارثِ انبیاعلیہم السلام ہیں اور انبیاء علیہم السلام درہم ودینا ر کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں توجس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ حاصل کرلیا۔''
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب السنۃ،باب فضل العلماء والحث علی طلب ا لعلم،الحدیث۲۲۳،ج۱،ص۱۴۵)
    طبرانی شریف میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ پیارے محبوب ،دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو بندہ علم کی جستجو میں جوتے یا موزے یا کپڑے پہنتا ہے ،اپنے گھر کی چوکھٹ سے نکلتے ہی اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔''
 (المعجم الاوسط، باب المیم،الحدیث ۵۷۲۲،ج۴،ص ۲۰۴)
Flag Counter