میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اپنی اولاد کو کامل مسلمان بنانے کے لئے زیورِ علمِ دین سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے مگر آہ!آج دینی تعلیم کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اپنے ہونہار بچوں کو دنیاوی علوم وفنون تو خوب سکھائے جاتے ہیں مگر سنتیں سکھانے کی طرف توجہ نہیں کی جاتی ۔ اگر بچہ ذرا ذہین ہوتواس کے والدین کے دل میں اسے ڈاکٹر، انجینئر ، پروفیسر ، کمپیوٹر پروگرامر بنانے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے لئے اس کی دینی تربیت سے منہ موڑ کر مغربی تہذیب کے نمائندہ اداروں کے مخلوط ماحول میں تعلیم دلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اسے ''اعلیٰ تعلیم ''کی خاطر کفار کے حوالے کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ۔اور اگر بچہ کندذہن ہے یا شرارتی ہے یا معذور ہے تو جان چھڑانے کے لئے اسے کسی دارالعلوم یا جامعہ میں داخلہ دلا دیا جاتا ہے ۔
بظاہر اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ والدین کی اکثریت کا مطمحِ نظر محض دنیاوی مال وجاہ ہوتی ہے ،اُخروی مراتب کا حصول ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتا ۔ والدین کو چاہيے کہ پہلے اپنی اولاد کو ضروری دینی تعلیم دلوائیں اسے کم ازکم نماز وروزہ کے مسائل، دیگرفرائض وواجبات ، حلال وحرام ، خریدوفروخت، اجارہ(یعنی اجرت پر خدمت