Brailvi Books

تربیت اولاد
113 - 185
سات برس کی عمر سے نماز کی تاکید کیجئے
    جب بچہّ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنا سکھائیں اور اسے پانچوں وقت کی نماز ادا کروائیں تاکہ بچپن ہی سے ادائیگی نماز کی عادت پختہ ہو ۔ بچے کوبالخصوص صبح سویرے اٹھنے اور وضو کر کے نماز پڑھنے کی عادت ڈالئے۔مگر سردیوں میں بچے کو وضو کے لئے نیم گرم پانی مہیا کیجئے تاکہ وہ سردپانی کی مشقت سے گھبرا کر وضو اور نماز سے جی نہ چرائے۔ بلکہ والد صاحب کو چاہيے کہ اسے مسجد میں اپنے ساتھ لے جائیں لیکن پہلے اسے مسجد کے آداب سے آگاہ کردیں کہ مسجد میں شور نہیں مچانا، ادھر ادھر نہیں بھاگنا، نمازیوں کے آگے سے نہیں گزرنا وغیرہ ۔ پھر اسے جماعت کی سب سے آخری صف میں دوسرے بچوّں کے ساتھ کھڑا کريں ۔اس حکمتِ عملی کی بدولت بچےّ کا مسجد کے ساتھ روحانی رشتہ قائم ہوجائے گا ، ان شاء اللہ عزوجل۔

     شاہِ بنی آدم ، نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:'' بچوں کو سات سال کی عمر ہوجانے پر نماز سکھاؤاور دس سال کے ہوجانے پر انہیں نماز کے معاملے پر مارو ۔''
 (سنن ترمذی،ابواب الصلوۃ ،باب ماجاء متی یو مر الصبیّ بالصلوٰۃ، الحدیث۴۰۷،ج۱،ص۴۱۶)
نماز کے عادی:
    جب محدّثِ اعظم حضرت علامہ مولانا سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بچپن میں چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اپنے والد ماجد کے ہمراہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانا شروع کردیا ۔
(حیاتِ محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ، ص۳۰)
Flag Counter