(سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن ،باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن ،الحدیث۳۹۸۹،ج۴،ص۳۵۰)
لیکن یادرکھئے! کہ کوئی بھی ولی چاہے وہ کیسا ہی عظیم ہو،احکامِ شرعیہّ کی پابندی سے آزاد نہیں ہوسکتا ،چنانچہ داڑھی منڈانے ،ایک مٹھی سے گھٹانے، گالیاں بکنے ، گانے سننے ، فلمیں ڈرامے دیکھنے ،نامحرم عورتوں کا ہاتھ پکڑنے والا اور دیگراعلانیہ گناہ کرنے والا شخص کبھی ولی نہیں ہوسکتا ۔ بعض جاہل یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ شریعت ایک راستہ ہے اور راستہ کی حاجت ان کو ہوتی ہے جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں،ہم تو پہنچ گئے ۔ ایسوں کے بارے میں سیدالطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''بے شک وہ سچ کہتے ہیں، وہ پہنچ گئے مگر کہاں؟ جہنم میں۔''
(الیواقیت والجواہر،مبحث السادس والعشرون،الجزء الاول،ص۲۰۶)