Brailvi Books

تنگدستی کےاَسباب اور اس کا حل
23 - 29
    زبردست مُحَدِث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کو خلیفۂ بغداد مامون رشید نے اپنے ہاں مدعو کیا، طَعام کے آخِر میں کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے، مُحَدِثِ موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے۔ مامون نے حیران ہوکر کہا، اے شیخ، کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا، کیوں نہیں! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے، ''جو شخص دسترخوان کے نیچے گِرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گا وہ تنگدستی سے بے خوف ہوجائے گا''۔
 (اتحاف السادۃ المتقین،الباب الاول،ج۵،ص۵۹۷،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
    میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کررہا ہوں۔ یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأثِّر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینا ررومال میں باندھ کر لایا۔مامون نے اس کو حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کردیا۔ حضرتِ سیِّدناہُدبہ بن خالِد علیہ رحمۃ الماجد نے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حدیثِ مبارَکہ پر عمل کی ہاتھوں ہاتھ بَرَکت ظاہر ہوگئی۔
 (ثَمَراتُ الْاَوراق ج ۱ ص ۸)
Flag Counter