Brailvi Books

تنگدستی کےاَسباب اور اس کا حل
21 - 29
دَرْاَصْل دُرُودِ پاک پڑھنے یا مذکورہ اسباب سے بچنے اورنَجات کے حل اپنانے میں نیت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہوتو ان شآ ء اللہ عَزَّوَجلَّ محتاجی ضَرور دور ہوگی ۔
مُحتاجی کسے کہتے ہیں؟
یاد رکھیئے ! محتاجی صرف مال کی کمی کانام نہیں ہے بلکہ بسا اوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان محتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مذموم فِعْل ہے ۔ اِنْ شآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ مذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکات سے قناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا) ہی اصْل میں غَنَا (یعنی دولت مندی) ہے اور دنیاوی مال کا حریص(یعنی لالچی) ہی حقیقت میں محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا نہیں ہے اور دنیوی مال سے یقینا افضل ہے ،کیونکہ دنیوی مال فانی بھی ہے اوروبال بھی ، کہ قیامت میں حساب دینا پڑے گا۔
 (ملخص از فیضانِ سنت ص۱۵۲)
دعائے عطار( دامَتْ بَرَکا تُھُمُ العا لِیہ) اے ہمارے مہربان اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے مالِ دنیا کی مَحَبَّت سے نَجات عطافرماکر قناعت کی لازوال نعمت نصیب فرما۔(اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْا مِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلّم)
Flag Counter