یاد رکھیئے ! محتاجی صرف مال کی کمی کانام نہیں ہے بلکہ بسا اوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان محتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مذموم فِعْل ہے ۔ اِنْ شآ ء اللہ عَزَّوَجَلَّ مذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکات سے قناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا) ہی اصْل میں غَنَا (یعنی دولت مندی) ہے اور دنیاوی مال کا حریص(یعنی لالچی) ہی حقیقت میں محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا نہیں ہے اور دنیوی مال سے یقینا افضل ہے ،کیونکہ دنیوی مال فانی بھی ہے اوروبال بھی ، کہ قیامت میں حساب دینا پڑے گا۔