Brailvi Books

تنگدستی کےاَسباب اور اس کا حل
15 - 29
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکا تُہُمُ العَا لِیہ فرماتے ہیں کہ بدقسمتی سے آج کھانے کا وُضُو کرکے سنت کے مطابق بيٹھ کر کھانا اور آخِر ميں برتن چاٹ کر پانی سے دھوکر پينے والی مبارَک سنتيں مَتروک نظر آتی ہيں۔ کاش ! ان ميٹھی سنتوں کو زندہ کرنے کے عزْم مُصَمَّم کے ساتھ تحريک شروع ہو۔
عیش وعشرت میں وُسْعَت
سیدُنا امام محمدغزّالی رحمۃاﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں روٹی کے ٹکڑے اورذرّوں کو چن لیں کہ حدیثِ پاک میں ہے جو شخص اس طرح کرتا ہے اس کے عیش و عشرت میں وُسْعَت کی جاتی ہے، اور اس کے بچے صحیح و سلامت اور بے عیب ہونگے اور وہ ٹکڑے حوروں کا مَہر ہوں گے ۔
 (کیمیائے سعادت،اصل اول آداب الطعام،باب اماپس از طعام،ج۱،ص۳۷۴،انتشارات گنجینہ تہران)
مل کر کھانے میں بَرَکت ہے
حضرت امیر المؤمنین سیدُناعمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اکٹھے کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ بَرَکت جماعَت کے ساتھ ہے۔
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب الاطعمۃ،باب الاجتماع علی الطعام،الحدیث۳۲۸۷ ،ج۴،ص۲۱، دارالمعرفہ بیروت)
Flag Counter