اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے فقھاء نے تمام سواکن البیوت(یعنی گھروں میں رہنے والے جانوروں)کے جھوٹے کو بھی پاک قرار دے دیا۔
(۲)۔۔۔۔۔۔سنت کے ذریعے:
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (مفہوم):جوشخص کھڑے کھڑے یا بیٹھے بیٹھے یا حالت رکوع و سجود میں سو جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ، وضو اس کا ٹوٹتا ہے جو پہلو کے بل سوئے کیونکہ جب وہ پہلو کے بل سوتا ہے تو اس کے اعضاءِ جسم ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔(اور اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتاہے) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے وضو ٹوٹنے کی علت استرخائے مفاصل (اعضاء کا ڈھیلا پڑنا) بیان فرمائی لہذا کسی ایسی چیز سے ٹیک لگا کر سونا کہ اگر اس چیز کو ہٹا دیاجائے توسونے والا گرجائے بھی ناقضِ وضوء ہے کیونکہ اس طرح سونے میں بھی یہی علتِ استرخائے مفاصل پائی جاتی ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اجماع کے ذریعے:
چھوٹے بچے پر باپ کو جو ولایت و اختیار حاصل ہے اس کی علت بچے کا