پر سارق والی حدِ قطع،جاری کرنا درست نہیں کیونکہ اس قیاس میں امر لغوی کو ثابت کیا گیا ہے نہ کہ حکمِ شرعی کو۔
پانچویں شرط :
فرع منصوص علیہ نہ ہو۔یعنی جس مسئلہ کا حکم قیاس کے ذریعے معلوم کرنا ہے اس مسئلہ کا حکم پہلے سے ہی دیگر دلائل سے معلوم نہ ہو ۔مثلاکَفارہ ظہار اورکَفارہ یمین کو کَفارہ قتل پر قیاس کرنا کہ جس طرح کَفارہ قتل میں مومن غلام یالونڈی کو آزاد کرنے کا حکم ہے اسی طرح کَفارہ ظہار اور کَفارہ یمین میں بھی مومن غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کا حکم ہونا چاہے تو یہ قیاس کرنا درست نہیں ہے کیونکہ فرع منصوص علیہ ہے یعنی فرع میں پہلے سے ہی نص وارد ہے اور وہ مطلق ہے یعنی اس میں یہ قید نہیں کہ رقبہ مؤمنہ ہی ہو۔