تیمم پر قیاس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح تیمم میں نیت شرط ہے بالکل اسی طرح وضو میں بھی نیت شرط ہے لیکن ان کا یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ اس سے قرآن پاک کی آیت جو کہ وضو کے بارے میں ہے اور مطلق ہے اسے مقید کرنا لازم آرہاہے اس وجہ سے یہ قیاس درست نہیں ہے۔
تیسری شرط :
اصل سے فرع کی طرف متعدی ہونے والا حکم عقل کے خلاف نہ ہو۔مثلاامام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب کا کہنا کہ دونجس قلے جب جمع ہوجائیں تو دونوں پاک ہو جائیں گے اور جب دونوں کو الگ الگ کردیا جائے تو دونوں طہارت پر باقی رہتے ہیں اور اسے اس مسئلے پرقیاس کرتے ہیں کہ پانی جب دو قلے ہو اور اس میں نجاست گرجائے تو وہ نجس نہیں ہوتے۔ اصحاب شافعی رحمہم اللہ کا یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ اس میں اصل سے فرع کی طرف متعدی ہونے والا حکم عقل کے خلاف ہے۔
چوتھی شرط :
تعلیل کسی حکمِ شرعی کو ثابت کرنے کیلئے ہو نہ کہ امر لغوی کو۔مثلا ''سَاِرق'' (چور)کو سارق اس لیے کہتے ہیں کہ یہ غیر کے مال کوخفیہ طور پر لیتاہے اور''نَبَّاش'' کہتے ہیں کفن چور کو لہذا نباش کو سارق پر لغوی اعتبار سے قیاس کرنا کہ جس طرح سارق میں چوری والا معنی پایا جاتا ہے اسی طرح نباش میں بھی چور ی والا معنی پایا جاتاہے پس اسی بناء پرنباش پر لفظ سارق کا اطلاق کر کے اس