| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
پہلی شرط :
قیاس نص کے مقابلے میں نہ ہو، یعنی نص کے ہوتے ہوئے قیاس کی اجازت نہیں۔ مثلاحضرت حسن بن زیادرحمہ اللہ سے کسی نے نماز میں قہقہہ لگانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:'' نماز میں قہقہہ ناقض وضو ہے ''یہ سن کر سائل نے کہا:'' اگر کوئی شخص نماز میں پاک دامن عورت پر تہمت لگائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا حالانکہ یہ انتہائی بڑا گناہ ہے تو نماز میں قہقہہ لگانا جو کہ اس سے ہلکا ہے ا س سے وضو کیسے ٹوٹ سکتاہے؟''لیکن سائل کا یہ قیاس نص(حدیث) کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔حدیث یہ ہے: ''اَلَا مَنْ ضَحِکَ مِنْکُمْ قَہْقَہَۃً فَلْیُعِدِ الْوُضُوْءَ وَالصَّلاَۃَ جَمِیْعاً
صحتِ قیاس کیلئے مندرجہ ذیل پانچ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
یعنی خبردار تم میں سے جو بھی نماز میں قہقہہ مارکر ہنسا تو وضوء و نماز دونوں کا اعادہ کرلے۔''
دوسری شرط :
قیاس سے نص کا کوئی حکم نہ بدلے۔مثلاامام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ وضو کو