Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
94 - 144
قیاس کی حجیت :
    اسلام قیامت تک باقی رہنے والادین ہے اسی لئے یہ قیامت تک پیدا ہونے والے مسائل کا حل پیش کرنے کی وسعت رکھتا ہے لہذا ایسے مسائل کہ جن کے بارے میں قرآن وسنت سے واضح حکم معلوم نہ ہو سکے انہیں قیاس کے ذریعے حل کیا جاتاہے اگر قیاس کی اجازت نہ ہو تو بہت سے مسائل بالخصوص جدید مسائل کا شرعی حل نا ممکن ہو کر رہ جاتا ہے۔متعدد احادیث میں بھی قیاس سے احکامِ شرعیہ حل کرنے اور قیاس کرنے کی اجازت کا ذکر ہے ، چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی مشہورو معروف حدیث میں ہے کہ جب سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو ان سے دریافت فرمایا کہ : تم کس چیز کی مدد سے فیصلہ کروگے ؟حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : کتاب اللہ سے۔ فرمایا کہ اگر تم وہاں نہ پاؤ تو؟ عرض کی : سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے، فرمایا: اگر وہاں بھی نہ پاؤ تو؟عرض کی : اَجتہدُ برأیي یعنی پھر میں اپنی رائے وقیاس سے کام لوں گا ،اس پر سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: '
'الحمد للہ الذی وفق رسول رسولہ لما یرضی بہ رسولہ
یعنی تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں کہ جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی کہ جس سے اس کا رسول راضی ہوتا ہے۔
Flag Counter