Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
86 - 144
سبق نمبر(17)

(۔۔۔۔۔۔ خبرِ واحد کی حجیت کا بیان۔۔۔۔۔۔)
 چار مقامات میں خبر واحد حجت و دلیل ہے:

پہلا مقام :

    خالص اللہ تعالی کا حق جس کا تعلق عقوبت( حدود و غیرہ) سے نہ ہو۔جیسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے چاند کے بارے میں ایک اعرابی کی گواہی( خبر واحد) کو قبول فرمایا۔یاد رہے کہ چاند سے روزہ ثابت ہوتا ہے جو کہ خالص حق اللہ ہے۔

دوسرا مقام :

    خالص بندے کا حق جس میں کسی دوسرے پر کوئی چیز لازم آتی ہو جیسے مال کا جھگڑا۔لیکن اس مقام پر خبرِ واحدکے حجت بننے کے لئے عدد یا عدالت شرط ہے۔عدد سے مراد کم از کم دو افراد ہیں۔

تیسرا مقام :

    خالص بندے کا حق جس میں کسی پر کچھ لازم نہ آئے جیسے قبول ھدیہ و دیگر معاملات۔ان امور میں بھی خبر واحد مقبول ہے خواہ خبر دینے والا عادل ہو یا فاسق ۔

چوتھا مقام :

    خالص بندے کا حق جس میں کسی پر کچھ نہ کچھ لازم آئے جیسے کسی کو معزول کرنا یا کسی پر پابندی لگانا۔
Flag Counter