شدید حاجت اور عموم بلوی تھا اس حدیث کے عدم صحت کی علامت ہے ۔
٭۔۔۔۔۔۔علم واجتہاد کے اعتبار سے راوی کی اقسام ۔۔۔۔۔۔٭
اس اعتبار سے راوی کی مندرجہ ذیل دو قسمیں ہیں:
قسم اول :
وہ رُواۃ جو علم واجتہاد میں معروف ہوں۔ جیسے خلفاء راشدین، عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، زید بن ثابت و معاذ بن جبل وغیرہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۔
اس کا حکم :
جب ان حضرات کی روایت صحیح ثابت ہو جائے تو قیاس کے مقابلے میں اس پر عمل کرنا اولی ہے۔
قسم ثانی :
وہ رواۃ جو حفظ وعدالت میں معروف ہوں لیکن اجتہاد وفتوی میں معروف نہ ہوں۔ جیسے حضرت ابو ہریرہ، انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہما۔
اس کا حکم :
جب اس قسم کے راویوں سے روایت کی صحت ثابت ہو جائے تو پھر دیکھیں گے کہ وہ روایت قیاس کے موافق ہے یا مخالف،اگر موافق ہوتو اس پر عمل کرنا لازم ہے اور اگر مخالف ہوتو قیاس پر عمل کرنا اولی ہے۔