Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
84 - 144
جائے گا اور کتاب اللہ پر عمل کیا جائے گا۔

               خبر واحد کو خبر مشہور پر پیش کرنے کی مثا ل :

    حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے ایک حدیث یوں روایت کی گئی:
''اَلْقَضَاءُ بِشَاہِدٍ وَیَمِیْن''
یعنی مدعی کو اگر اپنے حق میں دو گواہ نہ ملیں تووہ اپنے دعوے کے ثبوت میں ایک گواہ پیش کر سکتا ہے اور دوسرے گواہ کے بدلے قسم کھا لے تو قاضی کے یہاں یہ گواہی معتبر ہو گی۔لیکن جب ہم نے اس خبر واحد کو خبر مشھور پر پیش کیا تو اسے خبر مشھور کے مخالف پایاکیونکہ خبر مشھور میں ہے'
'اَلْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِیْ وَالْیَمِیْنُ عَلَی مَنْ اَنْکَر''
یعنی گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر ہے۔ جبکہ مذکورہ خبر واحد میں گواہی و قسم دونوں کے مدعی پر ہونے کا ذکر ہے لہذا خبر واحد کو خبر مشہور کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کردیا جائے گا اور خبر مشہور پرعمل کیا جائے گا۔

خبر واحد کے ظا ہر کے مخا لف ہونے کی صورت :

    خبر واحد کے ظاہر کے مخالف ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عُظام کے زمانہ مبارکہ میں وہ معاملات جن میں عموم بلوی تھا ان میں خبر واحد کی عدم شہرت(اور صحابہ و تابعین کا اس کے خلاف عمل) اس بات کی علامت ہے کہ یہ حدیث ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام پر اس بات کی تہمت نہیں لگائی جاسکتی کہ معاذ اللہ انہوں نے سنت کی پیروی میں تقصیر سے کام لیا اس لئے کہ اس زمانہ میں خبر واحد کی عدم شہرت کہ جس زمانے میں سنت کی
Flag Counter