یعنی گواہی مدعی پر اور قسم منکر پر ہے۔ جبکہ مذکورہ خبر واحد میں گواہی و قسم دونوں کے مدعی پر ہونے کا ذکر ہے لہذا خبر واحد کو خبر مشہور کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کردیا جائے گا اور خبر مشہور پرعمل کیا جائے گا۔
خبر واحد کے ظا ہر کے مخا لف ہونے کی صورت :
خبر واحد کے ظاہر کے مخالف ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عُظام کے زمانہ مبارکہ میں وہ معاملات جن میں عموم بلوی تھا ان میں خبر واحد کی عدم شہرت(اور صحابہ و تابعین کا اس کے خلاف عمل) اس بات کی علامت ہے کہ یہ حدیث ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ صحابہ کرام اور تابعین عظام پر اس بات کی تہمت نہیں لگائی جاسکتی کہ معاذ اللہ انہوں نے سنت کی پیروی میں تقصیر سے کام لیا اس لئے کہ اس زمانہ میں خبر واحد کی عدم شہرت کہ جس زمانے میں سنت کی