| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
اس قسم کی احادیث سنیں تو انھیں مؤمن گمان کرتے ہوئے آگے بیان کر دیں اس طرح لوگوں میں یہ من گھڑت احادیث بطور فرامین رسول مشہور ہو گئیں۔ انہی مفاسد کی وجہ سے خبر واحد کو کتاب اللہ اور حدیث مشہور پر پیش کیا جانا لازمی قرار پایا ۔
خبر واحد کو کتاب اللہ پر پیش کرنے کی مثال:
حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے ایک حدیث یوں روایت کی گئی''مَنْ مَسَّ ذَکَرَہ، فَلْیَتَوَضَّأ''
یعنی جس نے اپنے ذَکر کو چھوا تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔یہ خبر واحد ہے اور اسکا مفاد یہ ہے کہ ذَکر کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے اب اس بات کی صحت کو جانچنے کے لئے ہم اسے کتاب اللہ یا خبر مشہور پر پیش کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہ ان میں سے کسی کے مخالف تو نہیں تاکہ مخالفت کی صورت میں اسے رد اور موافقت کی صورت میں بچشم و سر قبول کر لیا جائے چنانچہ جب ہم نے اسے کتاب اللہ پر پیش کیا تواسکے مخالف پایاکیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے اہل قباء کی تعریف میں ارشاد فرمایا
( فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ )
ترجمہ کنزالایمان:''اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھراہونا چاہتے ہیں۔'' [التوبۃ: ۱۰۸] چونکہ یہ حضرات پتھروں سے استنجاء کرنے کے بعد پانی سے دھوتے تھے پس اگر مس ذکر حدث ہوتا(جیساکہ خبر واحد میں مذکور ہے)تو یہ طہارت کی بجائے تنجیس ہوتا حالانکہ آیت سے اسکا خلاف مستفاد ہوتا ہے۔لہذا خبر واحد کو کتاب اللہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے ترک کردیا