Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
82 - 144
میرے بعد تم پر احادیث کی کثرت ہو جائے گی لہذا جب تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث پہنچے تو تم اس کو کتاب اللہ پر پیش کرو اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو قبول کرلو اور اگر مخالف ہوتو رد کردو۔''اس قبول ورد کی تحقیق وہی ہے جسے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں کہ رواۃ تین قسم کے تھے:

پہلی قسم :

    وہ مومن ومخلص حضرات جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صحبت بابرکت حاصل کی اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کے معنی ومفہوم کو سمجھااور اسے من وعن لوگوں تک پہنچا دیا۔

دوسری قسم :

    وہ اعرابی (دیہاتی) حضرات جو کہ کسی قبیلے سے آئے اور سرکارصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعض کلام کو سن پائے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کلام کے حقیقی معنی ومفہوم کو نہیں سمجھ سکے چنانچہ جب قبیلے کی طرف واپس لوٹے تو وہاں حدیث کا صحیح مفہوم بیان کرنے سے قاصر رہے اور یہ گمان کیا کہ ہم حدیث بیان کر رہے ہیں۔

تیسری قسم :

    وہ منافق لوگ کہ جن کا نفاق ظاہر نہ تھاانہوں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنے بغیر من گھڑت احادیث روایت کیں اور جب لوگوں نے ان سے