| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
(۵)۔۔۔۔۔۔بیان حال :
جس جگہ بیان کرنے کی ضرورت ہو وہاں سکوت اختیار کرنا بیان حال کہلاتاہے۔
مثال :
جب شفیع کو اس با ت کا علم ہوا کہ اس کے پڑوس میں گھر کی بیع ہو رہی ہے اور اس نے سکوت اختیار کیا تو اس کا ایسا کرنا اس بات کا بیان ہے کہ اس بیع سے یہ راضی ہے ورنہ ضرورکچھ رد عمل کرتا۔اسی طرح باکر ہ بالغہ کی اجازت کے بغیر جب اس کے ولی نے اس کا نکاح کردیا پھر اسے معلوم ہوا تو اس نے سکوت اختیار کیا تو اس کا ایسا کرنا اس بات کا بیان ہے کہ وہ اس رشتے سے راضی ہے۔
ضابطہ :''اِنَّ السُّکُوْتَ فِیْ مُوْضِعِ الْحَاجَۃِ اِلٰی الْبَیَانِ بِمَنْزِلَۃِ الْبَیَان''
یعنی جہاں بیان کرنے کی حاجت ہو وہاں سکوت اختیار کرنا بیان ہی کے مرتبہ میں ہے۔
(۶)۔۔۔۔۔۔بیان عطف :
اگر کسی مجمل جملے پرمکیلی یاموزونی چیز کا عطف کریں تو یہ عطف اس مجمل جملے کا بیان ہوگا اور اسے ہی بیان عطف کہتے ہیں۔
مثال :
جب کوئی شخص کہے''لِفُلاَنٍ عَلَیَّ مِئَۃٌ وَثَلاَثَۃُ دَرَاہِمَ''
یعنی فلاں کے