| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ہیں تو اس کلام میں علی وجوب پر دلالت کرتاہے جس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ متکلم ہزار روپے کا مقروض ہے لیکن جب متکلم نے آگے ودیعۃً کہا تو اس لفظ نے کلام کے معنی کو تبدیل کر دیاچنانچہ اب اس کا معنی یہ ہواکہ فلاں کے جو میرے پاس بطور امانت ہزار روپے ہیں ان کی حفاظت مجھ پر لازمی ہے۔ اسی طرح یہ مثالیں
اَنْتَ حُرٌّ اِنْ دَخَلْتَ الدَّار اور کُلُّ مِنْ عِبَادِیْ حُرٌّ اِلاَّ زَیْداً۔
حکم :
بیان تغییر صرف اسی وقت صحیح ہوگاجبکہ کلام سے متصل ہو انفصال کی صورت میں صحیح نہ ہوگا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔بیان ضرورت :
وہ بیان جو بغیر کسی کلام کے ضرورتاً ثابت ہویعنی اس کیلئے الفا ظ استعمال نہ کئے جائیں پھر بھی سمجھ میں آجائے۔
مثال :
اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:( وَّوَرِثَہٗۤ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ )
ترجمہ کنزالایمان:''اورماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی۔'' [النساء: ۱۱] آیتِ مبارکہ کے اس جز میں اللہ عزوجل نے ماں کیلئے تہائی حصہ مقرر فرمایا ہے اور باپ کا حصہ الفاظ میں اگرچہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن اسی آیت سے ضرورتاً باپ کا دو تہائی حصہ بھی ثابت ہوگیا کیونکہ جب ماں کا حصہ ایک تہائی ہے تو لازماً باپ کا دو تہائی ہی ہو گا۔