| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ہوگیا اور یہی بیان تقریر ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔بیان تفسیر :
جب لفظ کی مراد واضح نہ ہولیکن متکلم اپنے بیان سے اس کی وضاحت کردے تو اسے بیان تفسیر کہتے ہیں۔
مثال :
کوئی شخص کہے''لِفُلاَنٍ عَلَیَّ شَیْء
''یعنی فلاں کامجھ پر کچھ ہے ۔یہ ایسا کلام ہے جس کی مراد واضح نہیں ہے لیکن جب متکلم نے الثوب سے وضاحت کردی یعنی '
'لِفُلاَنٍ عَلَیَّ شَیْءٌ اَیْ ثَوْب ''
تو اس سے مراد واضح ہوگئی۔ اور یہی بیان تفسیرہے۔
بیان تقریر وتفسیرکا حکم :
بیانِ تقریر اور بیانِ تفسیر دونوں پہلے کلام سے ملا کر ہویا الگ وقفہ کر کے دونوں طرح درست ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔بیان تغییر :
متکلم اپنے کلام کو اپنے ہی بیان سے بدل دے تو اسے بیان تغییر کہتے ہیں۔یعنی کلام میں شرط یا استثناء وغیرہ کر دے کہ جس سے تبدیلی واقع ہو جائے۔
مثال :
جب کوئی شخص کہے''لِفُلاَنٍ عَلَیَّ اَلْفٌ''
یعنی فلاں کے مجھ پر ہزار روپے