Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
74 - 144
سبق نمبر(15)

(۔۔۔۔۔۔طرقِ بیان ۔۔۔۔۔۔)
 یہاں بیان سے مراد کسی معنی کو ظاہر و واضح کرنا ہے۔ بیان کے مندرجہ ذیل سات طریقے ہیں۔

۱۔ بیان تقریر ۲۔ بیان تفسیر ۳۔ بیان تغییر ۴۔بیان ضرورت 

۵۔بیان حال ۶۔بیان عطف ۷۔بیان تبدیل

نوٹ :

     یاد رہے کہ بیان کبھی قول کے ذریعے ہوتا ہے اور کبھی فعل کے ذریعے۔

(۱)۔۔۔۔۔۔بیان تقریر :

    اگر کسی لفظ کا معنی تو ظاہر ہو لیکن اس میں دوسرے معانی کا بھی احتمال ہوتو اس وقت یہ بیان کر دینا کہ ظاہری معنی ہی مراد ہے بیان تقریر کہلاتا ہے۔

مثال :

    اگر کسی شخص نے کہا
''لِفُلاَنٍ عِنْدِیْ اَلْفٌ''
یعنی فلاں کے میرے پاس ہزار روپے ہیں تو اس میں امانت اور غیر امانت دونوں کا احتمال تھا لیکن جب اس نے یہ کہا
''لِفُلاَنٍ عِنْدِیْ اَلْفٌ وَدِیْعَۃً''
یعنی فلاں کے میرے پاس ہزار روپے بطور امانت ہیں ۔تواب امانت کا مفہوم جو ظاہر کا تقاضا بھی ہے پختہ
Flag Counter