| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
(۲)۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات فی مصدر پربھی داخل ہوتاہے اور اس وقت شرط کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔مثلاامام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے''
اَنْتِ طَالِقٌ فِی دُخُوْلِکِ الدَّار''
یعنی تجھے طلاق ہے بشرط یہ کہ تو گھر میں داخل ہو۔
(۱۲)۔۔۔۔۔۔حرف باء :
حرف باء لغوی وضع کے اعتبار سے الصاق واتصال کیلئے آتاہے بقیہ معانی مجازی ہیں۔مثلاکوئی شخص اپنے غلام سے کہے''اِنْ اَخْبَرْتَنِیْ بِقُدُوْمِ فُلاَنٍ فَاَنْتَ حُرٌّ''
یعنی اگر تو مجھے فلاں کے آنے کی خبر دے توتو آزاد ہے ۔تو اس سے سچی خبر مراد ہے کیونکہ خبر اور قدوم کا اتصال ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ غلام نے اگر جھوٹی خبر دی تووہ آزاد نہیں ہوگا۔