| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
ترجمہ کنزالایمان:''اس پر بیعت کرنے کوکہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھرائیں گی۔''[الممتحنۃ: ۱۲] آیت مبارکہ کے اس جز میں حرف'' علی'' شرط کے معنی میں استعمال ہورہا ہے۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔حرف فی :
یہ حرف دو طرح سے استعمال ہوتاہے:
(۱)۔۔۔۔۔۔ظرفیت کیلئے ۔مثلا جب کوئی شخص کہے''غَصَبْتُ ثَوْباً فِی مِنْدِیْل''
یعنی میں نے کپڑے کو رومال میں غصب کیااس مثال میں رو مال کپڑے کیلئے ظرف ہے۔پھر یہ کلمہ زمان ومکان کے لئے بھی استعمال ہوتاہے۔لیکن کبھی یہ عبارت میں مذکور ہوتا ہے اورکبھی محذوف ۔
زمان کی مثال :
جب کوئی شخص اپنی زوجہ سے کہے'' اَنْتِ طَالِقٌ فِیْ غَد''
یعنی آنے والی کل میں تجھے طلاق ہے ۔یا
''اَنْتِ طَالِقٌ غَداً''
یعنی تجھے آنے والی کل طلاق ہے تو ان دونوں صورتوں میں''غد'' ظرف زمان ہے۔
مکان کی مثال :
جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے''اَنْتِ طَالِقٌ فِیْ الدَّارِ وَفِیْ مَکَّۃ''
یعنی تجھے گھر میں اور مکے میں طلاق ہے۔تواس صورت میں عورت کو ہر جگہ طلاق واقع ہو جائے گی۔اور یہاں فی ظرف مکان کے لئے استعمال ہوا ہے۔