Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
71 - 144
ہوتاہے۔مثلا
''لاَ اُکَلِّمُ فُلاَناً اِلٰی شَہْر''
یعنی میں فلان سے ایک مہینے تک کلام نہیں کروں گا۔یہاں مہینہ تو گفتگو نہ کرنے کے حکم میں داخل ہے لیکن مہینہ کا ما بعد داخل نہیں۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔''اِلٰی'' کبھی حکم کو غایت تک مؤخر کرنے کیلئے آتاہے۔ مثلا جب کوئی شخص اپنی زوجہ سے اس طرح کہے
''اَنْتِ طَالِقٌ اِلَی شَہْر''
یعنی تو ایک مہینے کے بعد سے طلاق والی ہے اس کلام کے وقت اگر شوہر کی کوئی نیت نہ ہوتو عورت کو ایک مہینہ گزرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔

(۱۰)۔۔۔۔۔۔حرف علی :

    یہ کئی طرح سے استعمال ہوتاہے:

    (۱)۔۔۔۔۔۔کسی بات کو لازم کرنے کیلئے ۔مثلا
''لِفُلاَنٍ عَلَیَّ اَلْف''
یعنی فلان کے مجھ پر ایک ہزارہیں۔اس مثال میں'' علی'' بطورِ الزام استعمال ہواہے۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔حرف علی کبھی مجازاً باء کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔مثلااگر کوئی شخص کہے ''بِعْتُکَ ہٰذَا عَلَی اَلْف'' یعنی میں نے یہ چیز تمہیں ایک ہزار کے عوض بیچی ۔اس مثال میں علی باء کے معنی میں ہے کیونکہ اس میں معاوضے کا معنی پایا جارہاہے۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات حرف علی شرط کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔ مثلااللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 ( یُبَایِعْنَکَ عَلٰۤی اَنۡ لَّا
Flag Counter