Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
70 - 144
''عَبْدِیْ حُرٌّ اِنْ لَمْ اٰتِکَ حَتَّی تُغَدِّیْنِی''
یعنی اگر میں تیرے پا س ایسا آنا نہ آؤں کہ جس کی جزا کھانا ہے تو میرا غلام آزاد ہے۔چونکہ کھانادینا نہ آنے کی غایت نہیں بن سکتا اس لیے کہ وہ توباربار آنے کا سبب ہے لہذا یہاں حتی غایت کیلئے نہیں بلکہ'' لام کی'' کے معنی میں ہے۔

    (۳)۔۔۔۔۔۔اگر حتی کا ما بعدما قبل کی جزا بننے کی صلاحیت نہ رکھتاہو تو حتی محض عاطفہ ہوگا۔ مثلاامام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کوئی کہے
'' عَبْدِیْ حُرٌّ اِنْ لَمْ اتِکَ حَتّٰی اَتَغَدَّی عِنْدَکَ الْیَوْم ''
یعنی اگر میں تیرے پاس نہ آؤں اور آج کے دن تیرے پاس کھانا نہ کھاؤں تو میرا غلام آزاد ہے۔اس کلام میں حتی بطور عطف استعمال ہواہے یہ ماقبل کی جزا نہیں بن سکتا کیونکہ اس کلام میں (کھانا کھانا اور آنا) دونوں فعلوں کی اضافت فرد واحد کی طرف ہے یہی وجہ ہے کہ اگر وہ شخص اس کے ہاں آئے اور کھانا نہ کھائے تو وہ حانث ہو جائے گا۔

(۹)۔۔۔۔۔۔حرف إلی :

    یہ بھی انتہائے غایت کے لئے استعمال ہوتاہے پھر اس کی دو صورتیں ہیں:

    (۱)۔۔۔۔۔۔ بعض اوقات امتداد حکم یعنی حکم غایت کو آگے بڑھانے کیلئے آتاہے مثلا'
'اِشْتَرَیْتُ ہٰذَا الْمَکَانَ اِلٰی ہَذَا الْحَائِط'
'یعنی میں نے یہ مکان اس دیوار تک خریدا۔ یعنی سودے کا حکم دیوار تک بڑھ گیا اور دیوار بیع میں داخل نہیں ہے۔ اور بعض اوقات ما بعد کو حکم سے ساقط کرنے کیلئے استعمال
Flag Counter