Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
69 - 144
آیت مبارکہ کے اس جز ء میں او حتی کے معنی میں ہے یعنی حتی یتوب علیہم۔

نوٹ :

    حرف او نفی کی صورت میں دومذکورہ چیزوں میں سے ہر ایک کی نفی کرتاہے اور اثبات کی صورت میں بطور اختیار دو میں سے ایک کو شامل ہوگا۔

(۷)۔۔۔۔۔۔حرف حتی :

    یہ حرف تین طرح سے استعمال ہوتاہے:

    (۱)۔۔۔۔۔۔حرف حتی اپنی اصل وضع کے اعتبار سے ''الی'' کی طرح غایت کیلئے آتاہے لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ اس کاماقبل امتداد(یعنی طویل ہونے)کی اورمابعدغایت (انتہائ) بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلاامام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ مولی اگر اس طرح سے کہے
''عَبْدِیْ حُرٌّ اِنْ لَمْ اَضْرِبْکَ حَتَّی یَشْفَعَ فُلاَنٌ''
یعنی میرا غلام آزاد ہے اگر میں تجھے نہ ماروں یہاں تک کہ فلاں شخص سفارش کرے۔ یہاں مارنا(جو کہ حتی کا ما قبل ہے) ایک ایسا فعل ہے جو امتداد یعنی طویل ہو کر دیر تک جاری رہنے کی صلاحیت رکھتاہے اور سفارش (جو کہ حتی کا ما بعد ہے)میں اس بات کی صلاحیت ہے کہ اس کی وجہ سے مارنے والا مار سے باز آجائے۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔اگر یہ دونوں شرطیں یا ان میں سے کوئی ایک نہ پائی جائے اور حتی کاما قبل سبب اور ما بعد جزاء بننے کی صلاحیت رکھتا ہو توحتی جزاء کے لئے یعنی لام کَی کے معنی میں ہوگا ۔مثلاامام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب مولی کسی سے اس طرح کہے
Flag Counter