Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
67 - 144
نہیں)۔

(۵)۔۔۔۔۔۔حرف لکن :

    یہ حرف دومعنوں میں استعمال ہوتاہے:

    (۱)۔۔۔۔۔۔نفی کے بعد استدراک کیلئے۔ یعنی پہلے والے کلام سے پیدا ہونے والے وہم کو دور کرتاہے۔مثلااللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 ( وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ )
ترجمہ کنزالایمان:''اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتاہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔''[آل عمران: ۱۷۹]یہاں شروع کلام سے یہ شبہہ پیدا ہورہا تھا کہ علم غیب کی نفی انبیاء و غیر انبیاء سب سے ہے لیکن لکن کے بعد والے کلام نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے بتادیا کہ اللہ عزوجل اپنے انبیاء کرام علیہم السلام میں سے جسے چاہے علم غیب عطا فرماتاہے۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔استیناف یعنی نئے کلام کیلئے ۔اس صورت میں پہلے کلام سے اس کا تعلق نہیں ہوتااوریہ اس وقت ہوتاہے جب لکن کے ما قبل اور ما بعد کے درمیان تضاد ہو۔ مثلااگر کسی لونڈی نے ایک سو درہم مہر کے ساتھ اپنے مالک کی اجازت کے بغیرخود اپنا نکاح کرلیا اور مالک کو معلوم ہوا تو اس نے کہا
'' لاَ اُجِیْزُ الْعَقْدَ بِمِئَۃِ دِرْہَمٍ لٰکِنْ اُجِیْزُہ، بِمِئَۃٍ وَّخَمْسِیْن''
یعنی میں اس عقد کو سو درہم کے بد لے جائز نہیں کرتا لیکن ڈیڑھ سو درہم کے بدلے جائز قرار
Flag Counter