| تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ |
وصف دائمی ہے جو ہزار کی ادائیگی پر موقوف نہیں ہے ہاں غلام پر ہزار روپے بطورِ دین کے ضرور باقی رہیں گے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔حرف ثم :
ثم تراخی کیلئے آتاہے یعنی اس فعل میں وقفہ و فاصلہ ظاہر کرتا ہے جو معطوف و معطوف علیہ کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔
مثلا کوئی شخص اپنی غیر مدخولہ بیوی سے کہے''اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَاَنْتِ طَالِقٌ ثُمَّ طَالِقٌ ثُمَّ طَالِقٌ''
تو پہلی طلاق کا تعلق چونکہ شرط سے ہے لہذا جب شرط پائی جائیگی یعنی عورت گھر میں داخل ہوگی تو اسی وقت طلاق واقع ہو گی جبکہ دوسری اسی وقت واقع ہوجائے گی اس لئے کہ طلاق کا محل باقی ہے جبکہ تیسری لغو ہو جائے گی کیونکہ غیر مدخولہ کا حکم یہ ہے کہ وہ پہلی ہی طلاق میں بغیر عدت کے نکاح سے باہر ہو جاتی ہے ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔حرف بل :
''بل ''غلطی کے تدارک کیلئے آتاہے یعنی متکلم سے جب کلام میں غلطی ہوجائے تو اس حرف سے اس غلطی کا ازالہ کیا جاتاہے وہ اس طرح کہ حرف بل ذکر کر کے بعد والے کلام کو پہلے کلام کی جگہ رکھا جاتاہے۔مثلااگرکوئی اپنی غیر مدخولہ بیوی سے کہے'' اَنْتِ طَالِقٌ وَاحِدَۃً لَا بَلْ ثِنْتَیْن'
'یعنی تجھے ایک طلاق ہے نہیں بلکہ دو طلاقیں ہیں،تو اس کلام میں جو لا بل ثنتین ہے یہ کلام اول سے رجوع پر دلالت کرتاہے (قطع نظر اس کے کہ یہ رجوع درست ہے یا