Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
65 - 144
حرٌّ
یعنی ایک ہزار درہم ادا کر توتو آزاد ہے توآزادی کیلئے ایک ہزار درہم کی ادائیگی شرط ہے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔حرف فاء :

    (۱)۔۔۔۔۔۔یہ تعقیب مع الوصل کیلئے آتاہے یعنی فاء کے بعد جو اسم یا فعل مذکور ہو وہ حکماً بھی موخر ہوتا ہے لیکن دونوں کے درمیان بغیر کسی مہلت کے اتصال ہوتاہے اسی وجہ سے شرط کی جزاء میں حرف فاء لایا جاتاہے کیونکہ جزاء شرط کے بعد ہوتی ہے۔مثلاکوئی شخص اپنی زوجہ سے کہے:
''اِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَہٰذِہِ الدَّارَ فَاَنْتِ طَالِقٌ'
'یعنی اگر تواس گھر میں داخل ہوئی پھر اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو اسی صورت میں طلاق ہوگی جب شرط میں مذکور ترتیب کے مطابق ان گھروں میں داخل ہو یعنی جس گھر کا پہلے ذکر کیا اس میں پہلے اور جس کا بعد میں ذکر کیا گیا اس میں بعد میں داخل ہو لیکن دونوں کے داخل ہونے کے درمیان اتصال بھی ہو یہی وجہ ہے کہ اگر وہ پہلے اس گھر میں داخل ہو کہ جس کا ذکر بعد میں کیاگیا ہے یا پھر دونوں گھروں میں داخل ہونے کے درمیان اتصال نہ ہوتوطلاق واقع نہیں ہوگی۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔کبھی حرف فاء بیان علت کیلئے بھی آتاہے یعنی اس کا ما بعد ما قبل کیلئے علت بنتاہے۔مثلامولی اپنے غلام سے کہے
''اَدِّ اِلیَّ اَلْفاً فانتَ حرٌّ'
'یعنی تو مجھے ایک ہزار روپے ادا کر کہ توآزاد ہے۔تو اس صورت میں غلام فوراً ہی آزاد ہو جائے گا اگر چہ اس نے کچھ بھی ادا نہ کیا ہو کیونکہ آزادی یہ ایک
Flag Counter