ان سے مراد وہ حروف ہیں جو کسی معنی کا فائدہ دیتے ہیں۔لیکن انکے معنی مستقل نہیں ہوتے بلکہ ربطِ معنی کے لئے آتے ہیں اور یہ اسم وفعل کے درمیان رابطہ قائم کرکے عبارت بامعنی بناتے ہیں،ان کی تعداد گیارہ ہے اور وہ یہ ہیں:
۱۔واو ۲۔فاء ۳۔ثم ۴۔بل ۵۔لکن ۶۔او
۷۔حتی ۸۔الی ۹۔علی ۱۰۔فی ۱۱۔یاء
ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
(۱)۔۔۔۔۔۔ واؤ:
(۱)۔۔۔۔۔۔یہ مطلقاًجمع کیلئے آتاہے اس میں ترتیب کا کوئی لحاظ نہیں۔ مثلا''جاء زید وعمرو'' یعنی زید وعمرو دونوں آئے۔آنے میں دونوں برابر ہیں پہلے کون آیا اور بعد میں کون آیا یہ بتانا مقصود نہیں ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔کبھی یہ حال کیلئے بھی آتا ہے اور اس وقت یہ ذوالحال وحال کوجمع کرنے کا کام دیتاہے اور اس صورت میں شرط کا معنی دیتاہے۔مثلاامام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کوئی غلام سے اس طرح کہے