Brailvi Books

تلخیص اُصول الشاشی مع قواعد فقہیہ
62 - 144
سے نص میں تخصیص واجب ہوتی ہو تو جو معنی تخصیص کو مستلزم نہ ہو وہ مراد لینا اولی ہے۔

مثال :

    اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
( اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ  )
ترجمہ کنزالایمان:''یاتم نے عورتوں کو چُھوا۔''[النساء: ۴۳] اگر ملامست کو جماع پر محمول کریں تو جما ع کی تمام صورتوں پر عمل ہو جائے گا اور اگرہاتھ لگانے پر محمول کریں تو یہ نص کثیر صورتوں کے ساتھ خاص ہوگی کیونکہ اس میں محارم اورچھوٹے بچوں کا چھونا بھی آجائے گا لہذا یہاں پہلا معنی مراد لیں گے۔

تیسرا طریقہ :

    جب کوئی نص قرآنی دو قراء توں سے پڑھی جائے یا کوئی حدیث دو روایتوں سے مروی ہو تو ایسے طریقے پر عمل کرنا اولی ہے جس سے دونوں صورتوں پر عمل ہو سکے۔

مثال :

    اللہ عزجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
 ( وَامْسَحُوۡا بِرُءُ وۡسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ ؕ  )
ترجمہ کنزالایمان:''اور سروں کا مسح کرواورگٹوں تک پاؤں دھوؤ۔''[المائدۃ: ۶] اس آیت مبارکہ میں اَرْجُلکم کو نصب وجر دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے نصب کی صورت میں مغسول پرعطف ہے اور معنی یہ ہیں: اور اپنے سر کا مسح کرو اور دھوؤ اپنے پاؤں کو۔ اور جر کی صورت میں
Flag Counter